لکھنؤ10اگست(آئی این ایس انڈیا)بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی)سے بغاوت کرکے بھارتی جنتا پارٹی(بی جے پی)میں شامل ہوئے سوامی پرساد موریہ نے بی ایس پی سربراہ مایاوتی پر شدید حملہ کرتے ہوئے انہیں دلتوں کی بجائے انتخابات کے ٹکٹ بیچنے والی ’’بدعنوانی کی دیوی‘‘قرار دیا۔گذشتہ پیر کو بی جے پی صدر امت شاہ کی موجودگی میں پارٹی میں شامل ہونے کے بعد پہلی بار پارٹی ریاستی دفتر پہنچے موریہ نے بی جے پی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 20 سال تک بی ایس پی کی خدمت کی۔لیکن ہمیشہ مایاوتی کو صرف بدعنوانی کے سبق سیکھتے دیکھا۔انہوں نے کہا کہ ٹکٹ دیتے وقت تعاون کے نام پر امیدواروں سے کروڑوں روپے ایٹھنے والی مایاوتی خود کو دلتوں کی دیوی کہتی ہیں۔جن کارکنوں نے بے لوث انداز سے بی ایس پی کی خدمت کی وہ اب بندھوامزدور کی طرح کام کرنے اور ذلت برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔موریہ نے الزام لگایا کہ مایاوتی نے جس طرح سے بدعنوانی پھیلائی ہے،یہ پورے ملک میں پھیلنی شروع ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی حکومت میں ہر طرف افراتفری پھیلی ہے۔قتل، عصمت دری، لوٹ مار اور ڈکیتی کی واردات کے سیلاب آگئے ہیں۔سوشلزم کے آئیڈیل رام منوہر لوہیا اگر آج زندہ ہوتے تو وہ یاتواس حکومت کوبرخاست کردیتے یا پھر خود کشی کرلیتے۔موریہ نے کہا کہ خود کو دلتوں کی بیٹی کہنے والی مایاوتی انہی دلتوں پرہونے والے ظلم کے بارے میں کچھ نہیں بولتیں۔بی جے پی ریاستی ہیڈ کوارٹر میں امنڈتی یہ بھیڑ اس بات کا اشارہ ہے کہ مایاوتی کے خلاف عوام میں کس قدر ناراضگی ہے۔